اس شہر میں ایسی بھی قیامت نہ ہُوئی تھی


اس شہر میں ایسی بھی قیامت نہ ہُوئی تھی
تنہا تھے مگر خود سے تو وحشت نہ ہُوئی تھی

یہ دن ہیں کی یاروں کا بھروسا بھی نہیں ہے
وہ دن تھے کہ دُشمن سے بھی نفرت نہ ہُوئی تھی

اب سانس کا احساس بھی اِک بارِ گراں ہے
خود اپنے خلاف ایسی بغاوت نہ ہُوئی تھی

اُجڑے ہُوئے اس دِل کے ہر اِک زخم سے پوچھو
اِس شہر میں کس کس سے محبت نہ ہُوئی تھی؟

اب تیرے قریب آ کے بھی کچھ سوچ رہا ہُوں
پہلے تجھے کھو کر بھی ندامت نہ ہُوئی تھی

ہر شام اُبھرتا تھا اِسی طور سے مہتاب
لیکن دِل وحشی کی یہ حالت نہ ہُوئی تھی

خوابوں کی ہَوا راس تھی جب تک مجھے محسن
یوں جاگتے رہنا میری عادت نہ ہُوئی تھی

محسن نقوی

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s