هر لحظه به شكلي بت عيار بر آمد Munshi Raziuddin – Rumi


هر لحظه به شكلي بت عيار بر آمد — دل برد و نهان شد
هر دم به لباس دگر آن يار بر آمد — گه پير و جوان شد

ہر لحظہ وہ بتِ عیار ایک نئی ہی شکل میں ظاہر ہوتا ہے — دل چھینتا ہے اور غائب ہو جاتا ہے۔
ہر دم وہ یار دوسروں کے لباس میں ظاہر ہوتا ہے — کبھی بوڑھے کے روپ میں اور کبھی جوان کے۔

خود کوزہ و خود کوزہ گر و خود گلِ کوزہ — خود رندِ سبو کش
خود بر سرِ آں کوزہ خریدار برآمد — بشکست رواں شد

وہ خود ہی کوزہ ہے، خود ہی کوزہ بنانے والا اور خود ہی کوزہ کی مٹی — اور خود ہی کوزے سے پینے والا۔
اور خود ہی اس کوزے کے خریدار کے طور پر ظاہر ہوتا ہے — اور اس کیلیے اس کوزے کو توڑنا بھی جائز ہے۔

ني ني كه همو بود كه مي آمد و مي رفت — هر قرن كه ديدي 
تا عاقبت آن شكل عرب وار برآمد — داراي جهان شد 

وہی تھا جو ہرزمانے میں آتا رہا اور چاتا رہا – ہر زمانے نے دیکھا
لیکن بلآخر وہ ایک عرب (ص) کی شکل میں ظاہر ہوا — اور وہی (ص) جہان کے بادشاہ ہیں۔

ني ني كه همو بود كه مي گفت انا الحق — در صوت الهي 
منصور نبود آن كه بر آن دار برآمد — نادان به گمان شد 

وہی تھا کہ جس نے کہا کہ میں ہی حق ہوں — خدا کی آواز میں
وہ منصور نہیں تھا جو سولی پر ظاہر ہوا — نادان اور نہ جاننے والوں کو یہی لگتا ہے کہ وہ منصور تھا۔

رومي سخن كفر نگفته است و نگويد — منكر نشويدش 
كافر بود آن كس كه به انكار برآمد — از دوزخيان شد

رومی نے کبھی کفر کی بات نہیں کی اور نہ وہ کرتا ہے — وہ منکر نہیں ہےکافر تو وہ ہے جس نے انکار کیا تھا یعنی شیطان — اور وہی دوزخیوں میں سے ہے

Mualana Jalaluddin Rumi by Fareed ayaz qawwal & his father great ustad munshi raziuddin khan 

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s