Kabhi hum khubsurat they


 

کبھی ہم خوبصورت تھے ! 
کتابوں میں بسی خوشبو کی مانند 
سانس ساکن تھی ۔۔۔! 
بُہت سے ان کہے لفظوں سے تصویریں بناتے تھے 
پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کے 
دور کی جھیلوں میں بسنے والے لوگوں کو سُناتے تھے 
جو ہم سے دور تھے 
لیکن ہمارے پاس رہتے تھے 
نئے دن کی مُسافت ، جب کرن کے ساتھ آنگن مین اُترتی تھی 
تو ہم کہتے تھے تھے 
امی تتلیوں کے پر کتنے خوبصورت ہیں 
ہمیںماتھے پہ بوسہ دو کہ 
ہم کو تتلیوں کے 
جگنوؤں کے دیس جانا ہے ۔۔ 
ہمیں رنگوں کے جگنو، روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں 
نئے دن کی مُسافت رنگ میں ڈوبی ہوا کے ساتھ 
کھڑکی سے بُلاتی ہے 
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو

 

 

 

Advertisements

ایک خیال “Kabhi hum khubsurat they” پہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s