یہ عشق نہیں آساں، اتنا ہی سمجھ لیجئے


یہ عشق نہیں آساں، اتنا ہی سمجھ لیجئے

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

 

خود حسن وشباب ان کا کیا کم ہے رقیب اپنا

جب دیکھئے، تب وہ ہیں، آئینہ ہے، شانا ہے

 

ہم عشقِ مجسّم ہیں، لب تشنہ ومستسقی

دریا سے طلب کیسی، دریا کو رُلانا ہے

 

تصویر کے دو رُخ ہیں جاں اور غمِ جاناں

اک نقش چھپانا ہے، اک نقش دِکھانا ہے

 

یہ حُسن وجمال اُن کا، یہ عشق وشباب اپنا

جینے کی تمنّا ہے، مرنے کا زمانہ ہے

 

مجھ کو اِسی دُھن میں ہے ہر لحظہ بسر کرنا

اب آئے، وہ اب آئے، لازم اُنہیں آنا ہے

 

خوداری و محرومی، محرومی و خوداری

اب دل کو خدا رکھے، اب دل کا زمانہ ہے

 

اشکوں کے تبسّم میں، آہوں کے ترنّم میں

معصوم محبت کا معصوم فسانہ ہے

 

آنسو تو بہت سے ہیں آنکھوں میں جگر لیکن

بندھ جائے سو موتی ہے، رہ جائے سو دانا ہے

(جگر مُراد آبادی)

Advertisements

ایک خیال “یہ عشق نہیں آساں، اتنا ہی سمجھ لیجئے” پہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s