جو ناز تھا کبَھی وُہ ہوتا ہے چُور چُور اَب۔ ۔


جو ناز تھا کبَھی وُہ ہوتا ہے چُور چُور اَب۔۔!
نفرت مِرا مُقدر چاہوں میں پیار کیسا۔؟

یہ کاٹ دار آنکھیں پَیکر تراشتی ہیں
ُالفت کی مُعتبر ہیں اِن میں شرار کیسا۔؟

اب لگتا راز کوئی فُرقت وفا کی بابت۔۔۔!
کُہنہ حِساب گر تھا اب ُرخِ یار کیسا !

!..جو کعبہ میرا قِبلہ تُوحید میرا ایماں
اب بُت تِرے بہت سے تو پاس دار کیسا۔۔!

میرے خَیال رقصِ بِسمل کی طرح ہوتے۔۔۔!
دَم مستی جان بر ہوں تودرد خوار کیسا۔۔۔؟

اے ماہ دل گِرفتہ تو مّہر کے سَبب ہے ۔؟
گَر وَصل روز مّدِ جّز بار بار کیسا۔؟

پامال دل کے ارماں کرکے ہوا پشیماں
افسوس پہ مٹے غم تو اضطرار کیسا

اَب چھاۓ ہوۓ بادل باقی کیا مُسافت۔۔؟
تھاما اَجل نے جاتے غم کا قرار کیسا۔۔؟

پرَور وَفا کیا ہو ساری شبیہ مٹی۔۔!
خاکے کیا فنا اب نقش و نگار کیسا۔۔؟

اچھی نہیں توقع بے رحم لوگ سارے۔۔۔!
مَطلب کی یاری پِہ جگ کا اعتبار کیسا۔۔؟

اے نُورؔ دل بجھا اب ہر سمت تیرگی ہے ۔۔۔!
گُل ہیں چراغ سارے اب اِنتظار کیسا ۔۔؟
از سعدیہ نور ؔ شیخ

Contributed by Tariq Nawaz

Advertisements

ایک خیال “جو ناز تھا کبَھی وُہ ہوتا ہے چُور چُور اَب۔ ۔” پہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s