شکستہ پائی ارادوں کے پیش و پس میں نہیں


شکستہ پائی ارادوں کے پیش و پس میں نہیں
دل اُس کی چاہ میں گُم ہے جو میرے بس میں نہیں

براہِ روزنِ زنداں ہَوا تو آتی تھی
کُھلی فضا میں گُھٹن وہ ہے جو قفس میں نہیں

عجیب خواب تھا آنکھیں ہی لے گیا میری
کرن کا عکس بھی اب میری دسترس میں نہیں

پروین شاکر

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s