کِس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانی


کِس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانی
جُھوم کے آئی گھٹا ، ٹُوٹ کے برسا پانی

رُولئے پُھوٹ کے ، سینے میں جلن اب کیوں ہے
آگ پگھلا کے نِکالا ہے یہ جلتا پانی

کوئی متوالی گھٹا تھی کہ جوانی کی اُمنگ
جی بہا لے گیا برسات کا پہلا پانی

ٹکٹکی باندھے وہ پھرتے ہیں میں اِس فکر میں ہوں
کہیں کھانے لگے چکر نہ یہ گہرا پانی

بات کرنے میں وہ اُن آنکھوں سے امرت ٹپکا
آرزو دیکھتے ہی، منہ میں بھر آیا پانی

آرزو لکھنوی

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s