میں‎ طلب کے دشت میں پھر چکا


کسی دشت کا لب خشک ہوں جو نہ پائے مژدۂ آب تک

کبھی آئے بھی مری سمت کو تو برس نہ پائے سحاب تک

میں طلب کے دشت میں پھر چکا تو یہ راز مجھ پہ عیاں ہوا

مری تشنگی کے یہ پھیر ہیں کہ جو آب سے ہیں سراب تک

تجھے جان کر یہ پتا چلا تو مقام دید میں اور تھا

کئی مرحلے ہیں فریب کے مری آنکھ سے مرے خواب تک

میں وہ معنی غم عشق ہوں جسے حرف حرف لکھا گیا

کبھی آنسوؤں کی بیاض میں کبھی دل سے لے کے کتاب تک

سلیم احمد

Advertisements

دشت و دریا کے یہ اُس پار کہاں تک جاتی


دشت و دریا کے یہ اُس پار کہاں تک جاتی

گھر کی دِیوار تھی، دِیوار کہاں تک جاتی

مِٹ گئی حسرتِ دِیدار بھی رفتہ رفتہ
ہِجر میں حسرتِ دِیدار کہاں تک جاتی

تھک گئے ہونٹ تیرا نام بھی لیتے لیتے
ایک ہی لفظ کی تکرار کہاں تک جاتی

لاج رکھنا تھی مسیحائی کی ہم کو ورنہ
دیکھتے لذّت آزار کہاں تک جاتی

راہبر اُس کو سرابوں میں لئے پھرتے تھے
خلقتِ شہر تھی بیمار کہاں تک جاتی

تُو بہت دُور، بہت دُور گیا تھا مجھ سے
میری آواز میرے یار کہاں تک جاتی

ہر طرف حُسن کے بازار لگے تھے باقی
ہر طرف چشمِ خریدار کہاں تک جاتی

شاعر: باقی احمدپوری

فلسفہ و مذہب


فلسفہ و مذہب

یہ آفتاب کیا، یہ سپہرِ بریں ہے کیا!
سمجھا نہیں تسلسلِ شام و سحر کو میں

اپنے وطن میں ہوں کہ غریب الدیار ہوں
ڈرتا ہوں دیکھ دیکھ کے اس دشت و در کو میں

کُھلتا نہیں مرے سفرِ زندگی کا راز
لاؤں کہاں سے بندۂ صاحب نظر کو میں

حیراں ہے بو علی کہ میں آیا کہاں سے ہوں
رومی یہ سوچتا ہے کہ جاؤں کدھر کو میں

جاتا ہوں تھوڑی دور ہر اک راہرو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں

– علامہ اقبال

[Transliteration]

Falsafa-o-Mazhab

Ye Aftab Kya, Ye Sepehr-e-Bareen Hai Kya!
Samjha Nahin Tasalsul-e-Sham-o-Sehar Ko Main

Apne Watan Mein Hun Ke Ghareeb-Ud-Diyar Hun
Darta Hun Dekh Dekh Ke Iss Dast-o-Dar Ko Main

Khulta Nahin Mere Safar-e-Zindagi Ka Raaz
Laun Kahan Se Banda-e-Sahib Nazar Ko Main

Heeran Hai Bu Ali Ke Main Aya Kahan Se Hun
Rumi Ye Sochta Hai Ke Jaun Kidhar Ko Main

Jata Hun Thori Door Har Ek Rahroo Ke Sath
Pehchanta Nahin Hun Abhi Rahbar Ko Main

[Translation]

Philosophy And Religion

Wherefore this succession of day and night?
And what are the sun and the starry heavens?

Am I in my land or in banishment?
The vastness of this desert fills me with fright.

I know not the enigma of this life of mine;
I know not where to find one who knows.

Avicenna wonders where he came from;
And Rumi wonders where he should go.

With every wayfarer I pace a little;
I know not yet who my leader is.

چلو وہ عشق نہیں چاہنے کی عادت ہے


چلو وہ عشق نہیں چاہنے کی عادت ہے
پہ کیا کریں ہمیں‌ اک دوسرے کی عادت ہے

تو اپنی شیشہ گری کا ہنر نہ کر ضائع
میں آئینہ ہوں‌مجھے ٹوٹنے کی عادت ہے

میں کیا کہوں کہ مجھے صبر کیوں نہیں آتا
میں کیا کروں کہ تجھے دیکھنے کی عادت ہے

تیرے نصیب میں اے دل ! سدا کی محرومی
نہ وہ سخی، نہ تجھے مانگنے کی عادت ہے

وصال میں‌ بھی وہی ہے فراق کا عالم
کہ اسکو نیند مجھے رت جگے کی عادت ہے

یہ مشکلیں تو پھر کیسے راستے طے ہوں
میں ناصبور اسے سوچنے کی عادت ہے

یہ خود اذیتی کب تک فراز تو بھی اسے
نہ یاد کر کہ جسے بھولنے کی عادت ہے…!
احمدفراز

بہت فرسودہ لگتے ہیں مجھے اب پیار کے قصے


بہت فرسودہ لگتے ہیں مجھے اب پیار کے قصے
گل و گلزار کی باتیں، لب و رخسار کے قصے

یہاں سب کے مقدر میں فقط زخمِ جدائی ہے
سبھی جھوٹے فسانے ہیں وصالِ یار کے قصے

بھلا عشق و محبت سے کسی کا پیٹ بھرتا ہے
سنو تم کو سناتا ہوں میں کاروبار کے قصے

مرے احباب کہتے ہیں یہی اک عیب ہے مجھ میں
سرِ دیوار لکھتا ہوں پسِ دیوار کے قصے

کہانی قیس و لیلیٰ کی بہت ہی خوب ہے لیکن
مرے دل کو لبھاتے ہیں رسن و دار کے قصے

میں کیسے خون روتا ہوں وطن کی داستانوں پر
کبھی تم بھی تو سُن جاؤ مرے آزار کے قصے

شعیب اکثر میں لوگوں سے اسی کارن نہیں ملتا
وہی بے کار کی باتیں وہی بے کار کے قصے

Bohat farsooda lagte hain mujhe ab yaar ke kissey
Gul o gulzar ki batain lab o rukhsaar ke kisse,,

Yahan sab ke mukaddar main fakat zakhm e judai hai
Sabhi jhootay fasane hain wasal-e-yaar ke kisse,,

Bhala ishq-o-mohabbat se kis ka pait bharta hai
Suno ! tum ko sunata hoon mein karobar ke kisse,,

Mere ehbaab kehte hain yehi ik aeb hai mujh main
Sare deewar likhta hon main pasey deewar ke kisse,,

Main aksar es liye logon se ja kar khud nahin milta
Wohi bekaar ki batain ‘ wohi bekaar ke kisse!