ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے


ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے

ہم کو جانا ہے کہیں شام سے پہلے پہلے

نو گرفتار وفا سعئ رہائی ہے عبث

ہم بھی الجھے تھے بہت دام سے پہلے پہلے

خوش ہو اے دل کہ محبت تو نبھا دی تو نے

لوگ اجڑ جاتے ہیں انجام سے پہلے پہلے

اب ترے ذکر پہ ہم بات بدل دیتے ہیں

کتنی رغبت تھی ترے نام سے پہلے پہلے

سامنے عمر پڑی ہے شب تنہائی کی

وہ مجھے چھوڑ گیا شام سے پہلے پہلے

کتنا اچھا تھا کہ ہم بھی جیا کرتے تھے فرازؔ

غیر معروف سے گمنام سے پہلے پہلے

احمد فراز

Advertisements

ہم کو بھی اپنے آپ پہ کتنا غرور تھا


پی لی تو کچھ پتہ نہ چلا وہ سرور تھا

وہ اس کا سایہ تھا کہ وہی رشک حور تھا

کل میں نے اس کو دیکھا تو دیکھا نہیں گیا

مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی بہت غم سے چور تھا

رویا تھا کون کون مجھے کچھ خبر نہیں

میں اس گھڑی وطن سے کئی میل دور تھا

شام فراق آئی تو دل ڈوبنے لگا

ہم کو بھی اپنے آپ پہ کتنا غرور تھا

چہرہ تھا یا صدا تھی کسی بھولی یاد کی

آنکھیں تھیں اس کی یارو کہ دریائے نور تھا

نکلا جو چاند آئی مہک تیز سی منیرؔ

میرے سوا بھی باغ میں کوئی ضرور تھا

منیر نیازی

Uzr Aane Men Bhi Hai Aur Bulaate Bhi Nahin


 

عُذر آنے میں بھی ھے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں

خوب پردہ ھے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

ہو چکا قطع تعلق تو جفائیں کیوں ہوں
جن کو مطلب نہیں رہتا وہ ستاتے بھی نہیں

کیا کہا، پھر تو کہو، ہم نہیں سنتے تیری
نہیں سنتے تو ہم ایسوں کو سناتے بھی نہیں

زیست سے تنگ ہو اے داغ’ تو جیتے کیوں ہو
جان پیاری بھی نہیں جان سے جاتے بھی نہیں

(داغ دہلوی)

Uzr Aane Men Bhi Hai Aur Bulaate Bhi Nahin
Baais-E-Tark-E-Mulaaqaat Bataate Bhi Nahin

Khoob Pardaa Hai Ki Chilaman Se Lage Baithe Hain
Saaf Chhupte Bhi Nahin Saamane Aate Bhi Nahin

Ho Chukaa Qata-Ta’lluq To Jafaayen Kyon Hon
Jinko Matlab Nahin Rahta Wo Sataate Bhi Nahin

Zeest Se Tang Ho Ae ‘Daagh’ To Jeete Kyon Ho
Jaan Pyaari Bhi Nahin Jaan Se Jaate Bhi Nahin

آج کے نام


آج کے نام

اور

آج کے غم کے نام

آج کا غم کہ ہے زندگی کے بھرے گلستاں سے خفا

زرد پتوں کا بن

زرد پتوں کا بن جو مرا دیس ہے

درد کی انجمن جو مرا دیس ہے

کلرکوں کی افسردہ جانوں کے نام

کرم خوردہ دلوں اور زبانوں کے نام

پوسٹ مینوں کے نام

تانگے والوں کا نام

ریل بانوں کے نام

کارخانوں کے بھوکے جیالوں کے نام

بادشاہ جہاں والئ ماسوا، نائب اللہ فی الارض

دہقاں کے نام

جس کے ڈھوروں کو ظالم ہنکا لے گئے

جس کی بیٹی کو ڈاکو اٹھا لے گئے

ہاتھ بھر کھیت سے ایک انگشت پٹوار نے کاٹ لی ہے

دوسری مالیے کے بہانے سے سرکار نے کاٹ لی ہے

جس کی پگ زور والوں کے پاؤں تلے

دھجیاں ہو گئی ہے

ان دکھی ماؤں کے نام

رات میں جن کے بچے بلکتے ہیں اور

نیند کی مار کھائے ہوئے بازوؤں میں سنبھلتے نہیں

دکھ بتاتے نہیں

منتوں زاریوں سے بہلتے نہیں

ان حسیناؤں کے نام

جن کی آنکھوں کے گل

چلمنوں اور دریچوں کی بیلوں پہ بیکار کھل کھل کے

مرجھا گئے ہیں

ان بیاہتاؤں کے نام

جن کے بدن

بے محبت ریاکار سیجوں پہ سج سج کے اکتا گئے ہیں

بیواؤں کے نام

کٹٹریوں اور گلیوں محلوں کے نام

جن کی ناپاک خاشاک سے چاند راتوں

کو آ آ کے کرتا ہے اکثر وضو

جن کے سایوں میں کرتی ہے آہ و بکا

آنچلوں کی حنا

چوڑیوں کی کھنک

کاکلوں کی مہک

آرزومند سینوں کی اپنے پسینے میں جلنے کی بو

پڑھنے والوں کے نام

وہ جو اصحاب طبل و علم

کے دروں پر کتاب اور قلم

کا تقاضا لیے ہاتھ پھیلائے

وہ معصوم جو بھولے پن میں

وہاں اپنے ننھے چراغوں میں لو کی لگن

لے کے پہنچے جہاں

بٹ رہے تھے گھٹا ٹوپ بے انت راتوں کے سائے

ان اسیروں کے نام

جن کے سینوں میں فردا کے شب تاب گوہر

جیل خانوں کی شوریدہ راتوں کی صرصر میں

جل جل کے انجم نما ہوگئے ہیں

آنے والے دنوں کے سفیروں کے نام

وہ جو خوشبوئے گل کی طرح

اپنے پیغام پر خود فدا ہوگئے ہیں

 

Man Chandre


Mann Chandra- Crazy Heart

من چندرے نوں راس نا آوے ، نا آوے دھرواس

Mann chandre nu raas na aave, Na aave dharwaas

(Love neither suits my crazy heart, nor do I feel any relief!)

جگر دا سودا کیوں کر بیٹھا ، مک دی جاندی آس

Jigar da sauda kyon kar baitha, mukadi jaandi aas

(Why did I throw away (sell) my heart, and now the hope is also fading)

لٹ جاندا دل ، ھوکے کھا کے چھپ جاندا جے لٹ جاندا تے ،

Jey lut janda tey lut janda dil, hauke kha ke chhup jaanda

(Once my heart is gone, it’s gone and should have gone into seclusion after crying)

بےپرواہ  دا کی کہنا ،  نا آوے دھرواس

Beparwah da ki kehna, Na aave dharwaas..

(What to say about careless, there is no relief..)

درد ستوندا بیدرداں نوں ، بیدرداں دا کی جاندا

Dard sataunda bedardaan nu, bedardaan da ki jaanda..

(Pain hurts but heartless have no regret about it..)

تُو نے دیکھا ہے کبھی جیت کے ہارا ہوا شخص


بخت کے تخت سے یکلخت اتارا ہوا شخص

تُو نے دیکھا ہے کبھی جیت کے ہارا ہوا شخص

ہم تو مقتل میں بھی آتے ہیں بصد شوق و نیاز

جیسے آتا ہے محبت سے پکارا ہوا شخص

کب کسی قرب کی جنت کا تمنائی ہے

یہ ترے ہجر کے دوزخ سے گزارا ہوا شخص

بعد مدت کے وہی خواب ہے پھر آنکھوں میں

لوٹ آیا ہے کہیں دور سِدھارا ہوا شخص

اب اندھیرے ہیں کہ لیتے ہیں بلائیں اُس کی

روشنی بانٹ گیا دیپ پہ وارا ہوا شخص

موت کے جبر میں ڈھونڈی ہیں پناہیں اس نے

زندگی یہ ہے ترے لطف کا مارا ہوا شخص

جب بھی حالات کی چھلنی سے گزارا خود کو

ہاتھ آیا ہے مرے مجھ سے نتھارا ہوا شخص

اسد خان

یا میری آنکھ کے کشکول میں آنسو چمکا


یا میری آنکھ کے کشکول میں آنسو چمکا

یا اندھیرے میں کوئی شمع جلی ہے اب کے

کس کو فرصت ہے دھواں دیکھنے جائے "محسن”

جھونپڑی شہر سے کچھ دور جلی ہے اب کے

محسن نقوی