sham-e-gham tujhse jo dar jate hai


sham-e-gham tujhse jo dar jate hai shab guzar jaye to ghar jate hain yun numayan hain tere kuche me hum jhukaye huye sar jate hain ab ana ka bhi hame pass nah woh bulate nahi, par jate hain waqt-e-rukhsat unhe rukhsat karne hum bhi taahad-e-nazar jate hain yaad karte nahi, jis din tujhe hum apni nazron se utar jate hain waqt se pooch raha hai koi zakhm kaya waqai bhar jate hain zindagi tere ta'aqub main hum itna chalte hain ke mar jate hain mujh ko tanqeed bhali lagti hai aap tau had se guzar jate hain Tahir Faraz

اسی پاگل وانگ ھوا۔!!!! –


اسی لکھ نمازاں نیتِیاں –
اسی سجدے کِیتے لکھ –

اسی پکھّو وِچھڑے ڈار دے –
اسی اپنے آپ توں وَکھ –

اسی ، ویکھیا دِل مخلُوق دا –
دِل بُوھے بُوھے رکھ –

اسی راتاں کٹِیاں جاگ کے –
لگ بارِیاں نال کھلو –

ساڈے ساہ وِچ صَبر دی چاشنی –
ساڈی رگاں دے وِچ خَشبو –

اسی خالی کھوکھے ذات دے –
سانُوں چُنجاں مارن کاں –

اسی مَوسم کچّے عِشق دے –
ساڈی دُھپ بنے ، نہ چھاں –

اسی مُجرم عِشق دے جُرم دے –
اسی سُفنے لۓ اُڈیک –

ساتھے لگن روز عدالتاں –
سانوں پۓ جاۓ روز تارِیخ –

اسی جَمدے نال دے کابھرے –
اسی قِسمت نال خفاء –

اسی بھولے وانگ کبُوتراں –
اسی پاگل وانگ ھوا۔!!!! –

لوگ کیوں ڈھونڈ رہےہیں مجھےپتھرلےکر


لوگ کیوں ڈھونڈ رہےہیں مجھےپتھرلےکر
میں تو آیا نہیں کردار پیمبر لے کر

مجھ کو معلوم ہے معدوم ہوئی نقد وفا
پھر بھی بازار میں بیٹھاہوں مقدر لےکر

روح بیتاب ہے چہروں کا تاثر پڑھ کر
یعنی بےگھر ہوامیں شہرمیں اک گھرلےکر

کس نئے لہجے میں اب روح کا اظہار کروں
سانس بھی چلتی ہےاحساس کا خنجر لےکر

یہ غلط ہےکہ میں پہچان گنوا بیٹھا ہوں
دار تک میں ہی گیا حرف مکرر لے کر

معجزےہم سےبھی ہوتےہیں پیمبرکی طرح
ہم نے معبود تراشے ، فن آذر لے کر

خودکشی کرنے چلا ہوں مجھے روکو طارقؔ
زخم احساس میں چبھتے ہوئے نشتر لے کر

شمیم طارق

اندیشے


روح بے چین ہے، اک دل کی اذیّت کیا ہے؟
دل ہی شعلہ ہے تو یہ سوزِ محبّت کیا ہے؟
وہ مجھے بھول گئی، اِس کی شکایت کیا ہے؟
رنج تو یہ ہے کہ رو رو کے بھلایا ہو گا

وہ کہاں اور کہاں کاہشِ غم، سوزشِ جاں؟
اُس کی رنگین نظر اور نقوشِ حرماں؟
اُس کا احساسِ لطیف اور شکستِ ارماں؟
طعنہ زن ایک زمانہ نظر آیا ہو گا

جھک گئی ہو گی جواں سال امنگوں کی جبیں
مٹ گئی ہو گی للک، ڈوب گیا ہو گا یقیں
چھا گیا ہو گا دھواں، گھوم گئی ہو گی زمیں
اپنے پہلے ہی گھروندے کو جو ڈھایا ہو گا

دل نے ایسے بھی کچھ افسانے سنائے ہوں گے
اشک آنکھوں نے پِیے اور نہ بہائے ہوں گے
بند کمرے میں جو خط میرے جلائے ہوں گے
ایک اک حرف جبیں پر ابھر آیا ہو گا

اُس نے گھبرا کے نظر لاکھ بچائی ہو گی
مٹ کے اک نقش نے سو شکل دکھائی ہو گی
میز سے جب مری تصویر ہٹائی ہو گی
ہر طرف مجھ کو تڑپتا ہوا پایا ہو گا

بے محل چھیڑ پہ جذبات اُبل آئے ہوں گے
غم پشیمان تبسّم میں ڈھل آئے ہوں گے
نام پر میرے جب آنسو نکل آئے ہوں گے
سر نہ کاندھے سے سہیلی کے اٹھایا ہو گا

زلف ضد کر کے کسی نے جو بنائی ہو گی
روٹھے جلوؤں پہ خزاں اور بھی چھائی ہو گی
برق عشوؤں نے کئی دن نہ گرائی ہو گی
رنگ چہرے پہ کئی روز نہ آیا ہو گا

(کیفیؔ اعظمی)

کِس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانی


کِس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانی
جُھوم کے آئی گھٹا ، ٹُوٹ کے برسا پانی

رُولئے پُھوٹ کے ، سینے میں جلن اب کیوں ہے
آگ پگھلا کے نِکالا ہے یہ جلتا پانی

کوئی متوالی گھٹا تھی کہ جوانی کی اُمنگ
جی بہا لے گیا برسات کا پہلا پانی

ٹکٹکی باندھے وہ پھرتے ہیں میں اِس فکر میں ہوں
کہیں کھانے لگے چکر نہ یہ گہرا پانی

بات کرنے میں وہ اُن آنکھوں سے امرت ٹپکا
آرزو دیکھتے ہی، منہ میں بھر آیا پانی

آرزو لکھنوی