چلو وہ عشق نہیں چاہنے کی عادت ہے


چلو وہ عشق نہیں چاہنے کی عادت ہے
پہ کیا کریں ہمیں‌ اک دوسرے کی عادت ہے

تو اپنی شیشہ گری کا ہنر نہ کر ضائع
میں آئینہ ہوں‌مجھے ٹوٹنے کی عادت ہے

میں کیا کہوں کہ مجھے صبر کیوں نہیں آتا
میں کیا کروں کہ تجھے دیکھنے کی عادت ہے

تیرے نصیب میں اے دل ! سدا کی محرومی
نہ وہ سخی، نہ تجھے مانگنے کی عادت ہے

وصال میں‌ بھی وہی ہے فراق کا عالم
کہ اسکو نیند مجھے رت جگے کی عادت ہے

یہ مشکلیں تو پھر کیسے راستے طے ہوں
میں ناصبور اسے سوچنے کی عادت ہے

یہ خود اذیتی کب تک فراز تو بھی اسے
نہ یاد کر کہ جسے بھولنے کی عادت ہے…!
احمدفراز

Advertisements

بہت فرسودہ لگتے ہیں مجھے اب پیار کے قصے


بہت فرسودہ لگتے ہیں مجھے اب پیار کے قصے
گل و گلزار کی باتیں، لب و رخسار کے قصے

یہاں سب کے مقدر میں فقط زخمِ جدائی ہے
سبھی جھوٹے فسانے ہیں وصالِ یار کے قصے

بھلا عشق و محبت سے کسی کا پیٹ بھرتا ہے
سنو تم کو سناتا ہوں میں کاروبار کے قصے

مرے احباب کہتے ہیں یہی اک عیب ہے مجھ میں
سرِ دیوار لکھتا ہوں پسِ دیوار کے قصے

کہانی قیس و لیلیٰ کی بہت ہی خوب ہے لیکن
مرے دل کو لبھاتے ہیں رسن و دار کے قصے

میں کیسے خون روتا ہوں وطن کی داستانوں پر
کبھی تم بھی تو سُن جاؤ مرے آزار کے قصے

شعیب اکثر میں لوگوں سے اسی کارن نہیں ملتا
وہی بے کار کی باتیں وہی بے کار کے قصے

Bohat farsooda lagte hain mujhe ab yaar ke kissey
Gul o gulzar ki batain lab o rukhsaar ke kisse,,

Yahan sab ke mukaddar main fakat zakhm e judai hai
Sabhi jhootay fasane hain wasal-e-yaar ke kisse,,

Bhala ishq-o-mohabbat se kis ka pait bharta hai
Suno ! tum ko sunata hoon mein karobar ke kisse,,

Mere ehbaab kehte hain yehi ik aeb hai mujh main
Sare deewar likhta hon main pasey deewar ke kisse,,

Main aksar es liye logon se ja kar khud nahin milta
Wohi bekaar ki batain ‘ wohi bekaar ke kisse!

کیسی عمر میں آ کر ملی ہو تم


‎کیسی عمر میں آ کر ملی ہو تم‎بہت جی چاہتا ہے پھر سے بو دوں اپنی آنکھیں

‎تمہارے ڈھیر سے چہرے اگاؤں اور بلاؤں بارشوں کو

‎بہت جی ہے کہ فرصت ہو، تصور ہو

‎تصور میں ذرا سی باغبانی ہو

‎مگر جاناں

‎یہ کیسی عمر میں آ کر ملی ہو تم

‎کسی کے حصے کی مٹی نہیں ہلتی

‎کسی کی دھوپ کا حصہ نہیں چھنتا

‎مگر اب میری کیاری میں لگے پودے 

‎کسی کو پاؤں رکھنے کے لیے بھی تھاں نہیں دیتے

‎یہ کیسی عمر میں آ کر ملی ہو تم
‎شاعر: گلزار

رُخصت


‎جیسے جھنّا کے چٹخ جائے کسی ساز کا تار

‎جیسے ریشم کی کسی ڈور سے انگلی کٹ جائے

‎ایسے اِک ضرب سی پڑتی ہے کہیں سینے میں

‎کھینچ کر توڑنی پڑ جاتی ہے جب تجھ سے نظر

‎تیرے جانے کی گھڑی ، سخت گھڑی ہے جاناں !

گلزار

وقت کے تیر تو سینے پہ سنبھالے ہم نے


پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے خبردار سے ہیں
شام سے تیز ہوا چلنے کے آثار سے ہیں

ناخدا دیکھ رہا ہے کہ میں گرداب میں ہوں
اور جو پل پہ کھڑے لوگ ہیں اخبار سے ہیں

چڑھتے سیلاب میں ساحل نے تو منہ ڈھانپ لیا
لوگ پانی کا کفن لینے کو تیار سے ہیں

کل تواریخ میں دفنائے گئے تھے جو لوگ
ان کے سائے ابھی دروازوں پہ بیدار سے ہیں

وقت کے تیر تو سینے پہ سنبھالے ہم نے
اور جو نیل پڑے ہیں تری گفتار سے ہیں

روح سے چھیلے ہوئے جسم جہاں بکتے ہیں
ہم کو بھی بیچ دے ہم بھی اسی بازار سے ہیں

جب سے وہ اہل سیاست میں ہوئے ہیں شامل
کچھ عدو کے ہیں تو کچھ میرے طرف دار سے ہیں

گلزار

ردیف ، قافیہ ، بندش ، خیال ، لفظ گری


ردیف ، قافیہ ، بندش ، خیال ، لفظ گری

وُہ حور ، زینہ اُترتے ہوئے سکھانے لگی

.

کسی کے شیریں لبوں سے اُدھار لیتے ہیں

مٹھاس ، شہد ، رُطب ، چینی ، قند ، مصری ڈَلی

.

کسی کی مدھ بھری آنکھوں کے آگے کچھ بھی نہیں

تھکن ، شراب ، دَوا ، غم ، خُمارِ نیم شبی

.

کسی کو چلتا ہُوا دیکھ لیں تو چلتے بنیں

غزال ، مورنی ، موجیں ، نجم ، زمانہ ، گھڑی

.

کسی کے ساتھ نہاتے ہیں تیز بارش میں

لباس ، گجرے ، حیا ، زُلف ، آنکھ ، ہونٹ ، ہنسی

.

”بشرطِ فال” کسی خال پر میں واروں گا

چمن ، پہاڑ ، دَمن ، دَشت ، جھیل ، خشکی ، تری

.

نگاہیں چار ہوئیں ، وَقت ہوش کھو بیٹھا

صدی ، دَہائی ، برس ، ماہ ، روز ، آج ، اَبھی

.

کتاب ، باب ، غزل ، شعر ، بیت ، لفظ ، حُروف

خفیف رَقص سے دِل پر اُبھارے مست پری

.

کلام ، عَرُوض ، تغزل ، خیال ، ذوق ، جمال

بدن کے جام نے اَلفاظ کی صراحی بھری

.

سلیس ، شستہ ، مُرصع ، نفیس ، نرم ، رَواں

دَبا کے دانتوں میں آنچل ، غزل اُٹھائی گئی

.

قصیدہ ، شعر ، مسدس ، رُباعی ، نظم ، غزل

مہکتے ہونٹوں کی تفسیر ہے بھلی سے بھلی

.

مجاز ، قید ، معمہ ، شبیہ ، اِستقبال

کسی سے آنکھ ملانے میں اَدبیات پڑھی

.

کسی کے مرمریں آئینے میں نمایاں ہیں گھٹا ،

بہار ، دَھنک ، چاند ، پھول ، دیپ ، کلی …. !!!

شھزاد قیس