Nawazishein Karma Meherbanian : Shuja Hyder


Advertisements

کیسی عمر میں آ کر ملی ہو تم


‎کیسی عمر میں آ کر ملی ہو تم‎بہت جی چاہتا ہے پھر سے بو دوں اپنی آنکھیں

‎تمہارے ڈھیر سے چہرے اگاؤں اور بلاؤں بارشوں کو

‎بہت جی ہے کہ فرصت ہو، تصور ہو

‎تصور میں ذرا سی باغبانی ہو

‎مگر جاناں

‎یہ کیسی عمر میں آ کر ملی ہو تم

‎کسی کے حصے کی مٹی نہیں ہلتی

‎کسی کی دھوپ کا حصہ نہیں چھنتا

‎مگر اب میری کیاری میں لگے پودے 

‎کسی کو پاؤں رکھنے کے لیے بھی تھاں نہیں دیتے

‎یہ کیسی عمر میں آ کر ملی ہو تم
‎شاعر: گلزار

رُخصت


‎جیسے جھنّا کے چٹخ جائے کسی ساز کا تار

‎جیسے ریشم کی کسی ڈور سے انگلی کٹ جائے

‎ایسے اِک ضرب سی پڑتی ہے کہیں سینے میں

‎کھینچ کر توڑنی پڑ جاتی ہے جب تجھ سے نظر

‎تیرے جانے کی گھڑی ، سخت گھڑی ہے جاناں !

گلزار

وقت کے تیر تو سینے پہ سنبھالے ہم نے


پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے خبردار سے ہیں
شام سے تیز ہوا چلنے کے آثار سے ہیں

ناخدا دیکھ رہا ہے کہ میں گرداب میں ہوں
اور جو پل پہ کھڑے لوگ ہیں اخبار سے ہیں

چڑھتے سیلاب میں ساحل نے تو منہ ڈھانپ لیا
لوگ پانی کا کفن لینے کو تیار سے ہیں

کل تواریخ میں دفنائے گئے تھے جو لوگ
ان کے سائے ابھی دروازوں پہ بیدار سے ہیں

وقت کے تیر تو سینے پہ سنبھالے ہم نے
اور جو نیل پڑے ہیں تری گفتار سے ہیں

روح سے چھیلے ہوئے جسم جہاں بکتے ہیں
ہم کو بھی بیچ دے ہم بھی اسی بازار سے ہیں

جب سے وہ اہل سیاست میں ہوئے ہیں شامل
کچھ عدو کے ہیں تو کچھ میرے طرف دار سے ہیں

گلزار

ردیف ، قافیہ ، بندش ، خیال ، لفظ گری


ردیف ، قافیہ ، بندش ، خیال ، لفظ گری

وُہ حور ، زینہ اُترتے ہوئے سکھانے لگی

.

کسی کے شیریں لبوں سے اُدھار لیتے ہیں

مٹھاس ، شہد ، رُطب ، چینی ، قند ، مصری ڈَلی

.

کسی کی مدھ بھری آنکھوں کے آگے کچھ بھی نہیں

تھکن ، شراب ، دَوا ، غم ، خُمارِ نیم شبی

.

کسی کو چلتا ہُوا دیکھ لیں تو چلتے بنیں

غزال ، مورنی ، موجیں ، نجم ، زمانہ ، گھڑی

.

کسی کے ساتھ نہاتے ہیں تیز بارش میں

لباس ، گجرے ، حیا ، زُلف ، آنکھ ، ہونٹ ، ہنسی

.

”بشرطِ فال” کسی خال پر میں واروں گا

چمن ، پہاڑ ، دَمن ، دَشت ، جھیل ، خشکی ، تری

.

نگاہیں چار ہوئیں ، وَقت ہوش کھو بیٹھا

صدی ، دَہائی ، برس ، ماہ ، روز ، آج ، اَبھی

.

کتاب ، باب ، غزل ، شعر ، بیت ، لفظ ، حُروف

خفیف رَقص سے دِل پر اُبھارے مست پری

.

کلام ، عَرُوض ، تغزل ، خیال ، ذوق ، جمال

بدن کے جام نے اَلفاظ کی صراحی بھری

.

سلیس ، شستہ ، مُرصع ، نفیس ، نرم ، رَواں

دَبا کے دانتوں میں آنچل ، غزل اُٹھائی گئی

.

قصیدہ ، شعر ، مسدس ، رُباعی ، نظم ، غزل

مہکتے ہونٹوں کی تفسیر ہے بھلی سے بھلی

.

مجاز ، قید ، معمہ ، شبیہ ، اِستقبال

کسی سے آنکھ ملانے میں اَدبیات پڑھی

.

کسی کے مرمریں آئینے میں نمایاں ہیں گھٹا ،

بہار ، دَھنک ، چاند ، پھول ، دیپ ، کلی …. !!!

شھزاد قیس

چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں


چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں
چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں
جہاں ترے پیروں کے
کنول کھلا کرتے تھے
ہنسے تو دو گالوں میں
بھنور پڑا کر تے تھے
تری کمر کے بل پر
ندی مڑا کرتی تھی
ہنسی تری سُن سُن کر
فصل پکا کرتی تھی
جہاں تری ایڑی سے
دھُوپ اُڑا کرتی تھی
سنا ہے اس چوکھٹ پر
اب شام رہا کرتی ہے
دِل دَرد کا ٹکڑا ہے
پتھر کی کلی سی ہے
اِک اندھا کنواں ہے یا
اِک بند گلی سی ہے
اِک چھوٹا سا لمحہ ہے
جو ختم نہیں ہوتا
مَیں لاکھ جلا تا ہوں
یہ بھسم نہیں ہوتا

۔۔۔۔۔۔ گلزار صاحب ۔۔۔۔۔۔

ishq main ne likh dala


ishq main ne likh dala qoumiyat ke khanay main

aur tera dil likha shehriyat ke khanay main

mujh ko tajarabon ne hi baap bun ke pala hai

sochta hoon kaya likhon waldiyat ke khanay main

mere saath rehti hai mera saath deti hai

main ne likha tanhai zaujiyat ke khanay main

doston se ja kar jab mashwara kiya tau phir

main ne kuch nahin likha haisiyat ke khanay main

imtahan muhabbat ka paas kar liya main ne

ab yahi main likhon ga ahliyat ke khanay mian

jab se aap mere hain fakhr se main likhta hoon

naam aap ka apni milkiyat ke khanay main

Aamir Ameer